کمشنر سوشل سکیورٹی کیخلاف تحریک مزید تیز کی جائیگی:مزدور رہنما
پروٹوکول لینے ، اے سی کمروں میں بیٹھنے والے مزدور کے حقوق کی جنگ نہیں لڑ سکتے ہزاروں مزدور آج بھی بنیادی حقوق سے محروم:لطیف انصاری، ربنواز وٹو، ملک ممتاز
پینسرہ (نمائندہ دنیا)امن گھر فیصل آباد میں ڈویژن بھر سے آئے مزدور رہنماؤں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بابا لطیف انصاری، ربنواز وٹو، ملک ممتاز، شیخ نثار، نور خان بلوچ، اکبر جٹ، و دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ کمشنر سوشل سکیورٹی کیخلاف احتجاجی تحریک مزید تیز کی جائے گی۔ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی تنخواہ لینے والے کمشنر سوشل سکیورٹی مزدوروں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ پروٹوکول انجوائے کرنے اور اے سی کمروں میں بیٹھنے والے افسروں کو مزدوروں کے حقوق کیلئے ایک لفظ بولنا بھی گوارا نہیں، جبکہ ہزاروں مزدور آج بھی سوشل سکیورٹی سمیت اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ مزدوروں سے کنٹری بیوشن وصول کیا جاتا ہے لیکن اسکے بدلے انہیں علاج، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔
لطیف انصاری نے کہا کہ اگست آزادی کا مہینہ ہے اور اسی مہینے میں اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے آزادی کیلئے مزدور تحریک کا آغاز پورے پنجاب میں کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 19 اگست کو جھنگ روڈ سدھار سیکٹر میں جبکہ 26 اگست کو دھاندرہ میں بڑے عوامی مزدور جلسے کرکے پاور شو کیا جائے گا، جسکے بعد شہر شہر مزدور جلسوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ تحریک کا آخری بڑا جلسہ قادرآباد چوک فیصل آباد میں ہوگا، بعدازاں مزدوروں کے حقوق کیلئے احتجاجی تحریک کارخلاہور کی جانب کردیا جائے گا۔ رہنماؤں نے کہا کہ مزدور اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہونگے اور مطالبات منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ لاکھوں مزدوروں کو فوری سوشل سکیورٹی کارڈ جاری کیے جائیں، ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کرایا جائے ، مزدوروں کو علاج اور ادویات کی سہولیات دی جائیں ، اجرتوں میں اضافہ کیا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments