اٹھارہ ہزاری :جعلی زرعی ادویات اور کھادوں کی فروخت جاری
عملی اقدامات کی بجائے بیشتر کارروائیاں کاغذی حد تک محدود ہو کر رہ گئیں
اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا )جعلی زرعی ادویات اور کھادوں کی تیاری و فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، جس کے باعث فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہونے لگی ہے اور کاشتکاروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ متاثرہ کسانوں نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے کاشتکاروں کے مطابق پنجاب حکومت نے جعلی زرعی ادویات اور کھادوں کی تیاری و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے زرعی ٹاسک فورس کو خصوصی اہداف تفویض کیے تھے۔
ابتدائی مرحلے میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کی ٹیموں نے مختلف مقامات پر کارروائیاں بھی کیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ مہم سست روی کا شکار ہو گئی اور عملی اقدامات کی بجائے بیشتر کارروائیاں کاغذی حد تک محدود ہو کر رہ گئیں۔مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں جعلی زرعی ادویات اور ناقص کھادوں کی دستیابی کے باعث کپاس سمیت دیگر فصلیں متاثر ہو رہی ہیں، جس سے نہ صرف پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ فی ایکڑ پیداوار بھی کم ہو رہی ہے ۔کاشتکاروں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی ٹاسک فورس میں موجود غفلت کے مرتکب افسران و ملازمین اور جعلی ادویات و کھادوں کے کاروبار میں ملوث بااثر مافیا کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاکہ کسانوں کو معیاری زرعی مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments