51ویں احرار ختمِ نبوت کانفرنس،دعوتِ اسلام ریلی اختتام پذیر
نفاذِ اسلام، فلسطین کے مسئلے اور ملکی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ
چناب نگر (نامہ نگار )مجلس احرار اسلام پاکستان کے زیر اہتمام جامع مسجد احرار چناب نگر میں منعقدہ 51ویں سالانہ احرار ختمِ نبوت کانفرنس اور دعوتِ اسلام ریلی اختتام پذیر ہوگئی۔ دو روزہ کانفرنس میں ملک بھر سے علما کرام، دینی شخصیات، کارکنان اور عوام نے شرکت کی جبکہ نفاذِ اسلام، فلسطین کے مسئلے اور ملکی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔کانفرنس کی مختلف نشستوں سے سید محمد کفیل بخاری، مولانا خواجہ خلیل احمد، عبداللطیف خالد چیمہ، مولانا زاہد الراشدی، مفتی محمد حسن، سید عطاء المنان بخاری، مفتی طاہر مسعود، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مفتی طیب، قاضی محمد ارشد، مفتی تنویر الحسن احرار، مولانا محمد اکمل، مولانا ضیاء اللہ ہاشمی، ڈاکٹر شاہد کشمیری، ڈاکٹر شفیق اللہ صدیقی، مولانا سمیع اللہ ربانی سمیت دیگر علما و مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے تحفظِ ختمِ نبوت ﷺ، ملکی و عالمی حالات اور امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔کانفرنس کے اختتام پر متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں کہا گیا کہ اسلام کا عادلانہ نظام ملک کو درپیش مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ ہے ، لہٰذا پاکستان کے قیام کے بنیادی مقصد کے مطابق نفاذِ اسلام کے لیے عملی پیش رفت کی جائے۔
مقررین نے کہا پاکستان دستوری اعتبار سے ایک اسلامی ملک ہے ، تاہم عملی نظام میں موجود خامیوں، بدعنوانی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔ایک قرارداد میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین دفاعی معاہدے کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں قومی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔فلسطین اور بالخصوص غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے او آئی سی سے مطالبہ کیا گیا کہ جاری انسانی بحران اور اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور عملی اقدامات کیے جائیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کیا جائے ۔ قرارداد میں عالمی معاملات میں قومی وقار اور خودمختاری کو مقدم رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔ملکی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بڑھتے ہوئے قرضوں، مہنگائی اور غربت نے عام آدمی، بالخصوص مزدور اور کسان کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments