علی پورچٹھہ میں خود ساختہ مہنگائی نے پنجے گاڑ دئیے
علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر )علی پورچٹھہ میں خود ساختہ مہنگائی نے پنجے گاڑ دئیے جس کے باعث عام شہری، خصوصاً دیہاڑی دار مزدور اور غریب طبقہ شدید کرب اور فاقہ کشی پر مجبور ہو گیا ۔
آٹے ، روٹی اور دیگر بنیادی اشیا خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے گھریلو بجٹ کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ۔عوامی سروے میں شہریوں نے بتایا کہ 15 کلو آٹے کا تھیلا جو کچھ عرصہ قبل 1300 روپے میں دستیاب تھا اب 1800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ 700 گرام روٹی کی قیمت 15 روپے مقرر کی گئی ہے ۔ شہریوں نے مزید بتایا کہ گندم کی فصل کسانوں سے 2200 سے 2300 روپے فی من کے حساب سے خریدی گئی مگر اب یہی گندم 4300 سے 4400 روپے فی من کے درمیان فروخت ہو رہی ہے جس سے نہ صرف کسان برباد ہوا بلکہ صارف بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر متوازن پالیسی نے ملکی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔
مزدوروں کا کہنا ہے کہ جب یومیہ اجرت ایک ہزار روپے ہو اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوگنی ہو جائیں تو گھر کا چولہا جلانا ناممکن ہو جاتا ہے ،ایسے حالات میں بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور دیگر بنیادی ضروریات کیسے پوری کی جائیں۔ شہریوں نے شکوہ کیا کہ بے روزگاری کے موجودہ حالات میں جب مزدوری نہ ملے تو غریب کو ادھار بھی کوئی دینے کو تیار نہیں ہوتا کیونکہ واپسی کی امید ہی باقی نہیں رہتی۔ عوامی حلقوں نے پرائس کنٹرول کمیٹیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹیاں جرمانے لگا کر تو ریونیو اکٹھا کر لیتی ہیں مگر عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔