لالہ موسیٰ :مین بازار میں رکشوں کی بھرمار ، کاروبار ٹھپ
پابندی کے باوجود داخلہ ، میونسپل کمیٹی حکام پر رکشہ والوں سے منتھلی لینے کاالزام
لالہ موسیٰ(نمائندہ دنیا ، نامہ نگار)لالہ موسیٰ کے مین بازار میں چنگ چی رکشوں کی بھرمار سے کاروبار ٹھپ،میونسپل کمیٹی حکام پر رکشہ والوں سے منتھلی لینے کاالزام ،تاجروں نے صوبائی محتسب کے ضلعی دفتر گجرات کو درخواست ارسال کردی۔لالہ موسیٰ کے مین بازار میں دن کے اوقات میں چنگ چی رکشوں کی بھرمار ہوچکی ہے جس سے بازار میں خریداری کیلئے آئے شہریوں خصوصاً خواتین کو گزرنے میں مشکلات کاسامنا کرناپڑتاہے اور خواتین کی اکثریت نے لالہ موسیٰ کے مین بازار کے بجائے جی ٹی روڈ پر بنے شاپنگ مالزپر جاناشروع کردیاہے اور مین بازارکے دکاندارسارادن ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ،تجاوزات اور کشوں کی وجہ سے کئی تاجر دکانیں خالی کرچکے ہیں،مین بازار کے تاجروں کاکہناہے کہ بازار میں دن 2بجے تک ہتھ ریڑھیوں اور رکشوں کے داخلے پر پابندی ہے لیکن میونسپل کمیٹی کے عملہ کو مبینہ طور پر مال پانی لگاکر وہ سارادن بازار میں کھڑے اور آتے جاتے رہتے ہیں ۔شہریوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ بلدیہ کے بعض ملازمین مبینہ طور پر رکشہ ڈرائیورز سے فی رکشہ روزانہ 100 روپے رشوت وصول کرتے ہیں جس کے عوض مخصوص کارڈ یا اشاروں کے ذریعے رکشوں کو بازار میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ شہریوں نے تنگ آکر صوبائی محتسب اعلیٰ کے ضلعی دفتر گجرات کو کارروائی کیلئے درخواست بھجوادی ۔