دھان کی کاشت شروع ، مہنگے ڈیزل ،کھاد سے کاشتکار پریشان

دھان کی کاشت شروع ، مہنگے ڈیزل ،کھاد سے کاشتکار پریشان

بجلی کے بھاری بلوں نے ٹیوب ویل چلانا محال کر دیا ،حکومت سے سبسڈی کا مطالبہ

وزیرآباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضلع بھر میں دھان کی کاشت کا آغاز، مہنگے ڈیزل اور کھاد نے کسانوں کی کمر توڑ دی۔ ضلع بھر کے دیہی علاقوں میں دھان کی کاشت کے سیزن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تاہم مہنگائی کے طوفان نے کاشتکاروں کو شدید ترین پریشانی میں مبتلا کر دیا ۔ زمینداروں نے اگیتی اور کم دورانیے میں تیار ہونے والی دھان کی مختلف اقسام کی پنیری کھیتوں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا جبکہ دوسری طرف چاول کی مشہورِ زمانہ اور اعلیٰ ترین قسم ’’سپر باسمتی‘‘کی پنیری ابھی تیار کی جا رہی ہے جسے آنیوالے دنوں میں کاشت کیا جائے گا۔رواں سیزن کے آغاز پر ہی کسانوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے ۔ مقامی زمینداروں اور کسان تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کھادوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے سستی اور معیاری کھاد کا حصول خواب بن چکا ہے ۔ اس کیساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بجلی کے بھاری بلوں نے ٹیوب ویل چلانا محال کر دیا جس سے فصلوں کو پانی دینے کے اخراجات کسانوں کی بساط سے باہر ہو چکے ہیں۔موجودہ صورتحال پر کاشتکاروں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے زراعتی مداخل پر فوری طور پر سبسڈی نہ دی اور کسانوں کو ریلیف فراہم نہ کیا تو دھان کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں