میٹرو پراجیکٹ پر ایک کھرب روپے لگانا زیادتی :ڈاکٹر زاہد

میٹرو پراجیکٹ پر ایک کھرب روپے لگانا زیادتی :ڈاکٹر زاہد

روٹ پر کالجز، یونیورسٹیز، ہسپتال اور فیکٹریاں ہوتیں تو پھر کوئی جواز بنتا تھا اتنی رقم سے ڈیم بنتا تو بجلی سستی ہو تی ، انڈسٹری لگائی جاتی تو لوگوں کو روز گار ملتا

گوجرانوالہ (سٹی رپورٹر)صدرپرائیویٹ ہسپتا ل ایسوسی ایشن گوجرانوالہ ڈاکٹر میاں زاہد نے کہا کہ میری ناقص رائے کے مطابق ایک خطیر رقم (ایک کھرب روپے )جو میٹرو بس پراجیکٹ پر لگایا جا رہا ہے اس کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں تھی یا تو اس روڈ کے اوپر بہت سارے کالجز، یونیورسٹیز، ہسپتال اور فیکٹریاں موجود ہوتیں یا پھر عام لوگوں کی بہت زیادہ روزانہ کی آمدورفت ہوتی تو پھر اس کا جواز بھی بنتاتھا،یہ ایک انتہا ئی بے سود اور غیر ضروری منصوبہ ہے ،ٹیکس دہندگان کے ایک کھرب روپے اس طرح کے منصوبہ پر ضائع کرنا بہت بڑا ظلم اور زیادتی ہے۔

ڈاکٹر میاں زاہد نے مزید کہا کہ 60 لاکھ کی آبادی کیلئے DHQ HOSPITALاور GMC TEACHING HOSPITALملا کر بھی ٹوٹل 1000بیڈز بنتے ہیں جبکہ اصل ٹیچنگ ہسپتال کی ابھی بنیاد ہی نہیں رکھی گئی ، اس شہر کی بچیوں اور بچوں کیلئے مزید کالجز اور یونیورسٹیز بشمول کیڈٹ کالج کی اشد ضرورت ہے ، ایک کھرب روپے سے کسی دریا پر کوئی ڈیم بنانے کیلئے استعمال کر لیتے تو کم از کم بجلی ہی سستی ہو جاتی،انڈسٹری لگا لیتے لوگوں کو روزگار ملتا اوران کی مشکلات کچھ کم ہو جاتیں،موجودہ ترجیحات سمجھ سے بالاتر ہیں۔اگر میٹرو بس سروس آپکے خیال میں ناگزیر ہے تو خدارا سب سے پہلے ہر ریلوے پھاٹک پر پہلے انڈر پاس بنائیں پھر میٹرو بس کیلئے ٹریک بنائیں ورنہ ٹریفک کے مسائل مزید گھمبیر ہوجائیں گے اور لوگ گھنٹوں پھاٹک پر ذلیل ہوا کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں