پاکستان اور ترکیہ کا ماحولیاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
موسمیاتی تبدیلی معیشت، روزگار اور قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی،عائشہ ہمایوں
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) پاکستان اور ترکیہ نے موسمیاتی تبدیلی، سیلابی خطرات اور آبی تحفظ کے شعبوں میں سٹرٹیجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے ، دونوں ممالک نے رواں سال نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس \'\'کاپ 31\'\' سے قبل علاقائی اشتراک کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔کاپ 31 کانفرنس میں عالمی ماحولیاتی وعدوں پر عملدرآمد، موسمیاتی موافقت کے لیے مالی معاونت، موسمیاتی نقصانات سے متاثرہ ممالک کی مدد اور شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔یہ اتفاق رائے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ میں اعلیٰ سطحی ترک وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سامنے آیا۔ ترک وفد، جسے ٹیکا نے سہولت فراہم کی، کی قیادت مارف آراس نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی عائشہ ہمایوں موریانی نے کی۔ملاقات میں سیلابی اور دریائی نظام کے مربوط انتظام، گلیشیئر اور برفانی تودوں کے خطرات، ابتدائی انتباہی نظام، صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ انفراسٹرکچر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عائشہ ہمایوں موریانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب معیشت، روزگار اور قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے ۔