ایک صدی مکمل کرنے والی تاریخی حسن علی ہوتی مارکیٹ کا تزئین نوکے بعد باضابطہ افتتاح
اصل تشخص برقرار ، چبوترے ختم کیے گئے ، تجاوزات کا صفایا اور جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں،مچھی میانی مارکیٹ کی بحالی کا بھی جلد آغاز کیا جائے گا،میئر مرتضیٰ وہاب کی گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے آج ہم ایک صدی مکمل کرنے والی تاریخی حسن علی ہوتی مارکیٹ کو وقت گزرنے کے ساتھ نظرانداز کیا گیا، تجاوزات قائم ہو گئیں اور اس کا اصل حسن ماند پڑ گیا، تاہم بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اس تاریخی ورثے کو بچانے کا بیڑہ اٹھایا، ہم نے اس مارکیٹ کی تزئین و آرائش اس انداز سے کی ہے کہ اس کا اصل تشخص برقرار رہے ، چبوترے ختم کیے گئے ، تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا اور جدید سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ تاجر برادری کو بہتر ماحول مل سکے ، قدیم ورثے کی بحالی شہری ترقی کا اہم حصہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولڈ سٹی ایریا رنچھوڑ لائن میں واقع تاریخی حسن علی ہوتی مارکیٹ کے 100 سال مکمل ہونے پر تزئین و آرائش اور بحالی کے بعد باقاعدہ افتتاح کرنے کے موقع پر کیا، اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ، منتخب نمائندے ، تاجر برادری اور بلدیہ عظمیٰ کے افسران بھی موجود تھے۔
میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ایک کثیر الثقافتی شہر ہے جہاں ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگ بستے ہیں، اور یہ تاریخی بازار اسی ہم آہنگی کی علامت ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈینسو ہال اور فریئر ہال کو بحال کیا جا چکا ہے ، ایمپریس مارکیٹ پر کام جاری ہے ، کے ایم سی بلڈنگ کی بحالی ہو رہی ہے ، لی مارکیٹ پر کام شروع ہو چکا ہے جبکہ مچھی میانی مارکیٹ کی بحالی کا بھی جلد آغاز کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس سال انشاء اللہ کراچی پر 46 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے ، پانی کے مسائل کے حل کے لیے کے فور، حب کینال اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے ، ماڑی پور میں 54 ایم جی ڈی پانی ٹریٹ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹی پی ون کے پہلے فیز میں 20 ایم جی ڈی پانی ٹریٹ ہوگا۔ اس موقع پرصوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ، فریئر ہال اور دیگر تاریخی عمارتوں پر بھی کام ہو رہا ہے اور یہ تمام منصوبے سندھ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کی واضح مثال ہیں۔