میرپور خاص:ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کے 5ملزم اشتہاری قرار
مجموعی طورپر 23افراد نامزد، 12عبوری ضمانت پررہا، 6کی عدالت پیشی
میرپور خاص (بیورو رپورٹ )میرپورخاص میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پولیس حراست کے دوران قتل ہونے والے عمرکوٹ کے رہائشی ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے کیس کی سماعت ہوئی، کیس میں مجموعی طور پر 23 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 12 ملزمان عبوری ضمانت پر رہا ہیں، 6 گرفتار ملزمان عدالت میں پیش ہوئے ، جبکہ 5 نامزد پولیس افسران و اہلکاروں کو اشتہاری قرار دے دیا گیا، عدالت میں پیش ہونے والے 6 گرفتار ملزمان میں سابق سب انسپکٹر سی آئی اے ہدایت اللہ ناریجو، کانسٹیبل نادر پرویز، غلام قادر، فرمان، عطاء اللہ اور اللہ جاریو شامل تھے ، جبکہ عدالت نے سابق ڈی آئی جی جاوید سونہارو جسکانی، سابق ایس ایس پی چوہدری اسد علی، سابق سب انسپکٹر عبدالستار سامون سمیت 5 نامزد پولیس اہلکاروں کو اشتہاری قرار دے دیا، سماعت کے بعد عدالت کے باہر ملزم عطا اللہ بجیر کے وکیل افضل کریم ورک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق ایس ایس پی کے ڈرائیور عطا بجیر کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ ان کے مطابق نہ تو کسی گواہ نے عطا بجیر کو کراچی جاتے یا آتے دیکھا اور نہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کو گرفتار کرنے والی ٹیم کا حصہ تھا، وکیل نے مزید کہا کہ اگر بالفرض عطا بجیر ٹیم میں شامل بھی تھا، تو اس پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام ثابت نہیں ہوتا، جبکہ عطا بجیر کو خود پولیس نے گرفتار کیا ہے ، لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس کی درخواستِ ضمانت منظور کی جائے ،عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔