پاک افغان مذاکرات، ترکیہ کی ثالثی سے دستبرداری لمحہ فکریہ

پاک افغان مذاکرات، ترکیہ کی ثالثی سے دستبرداری لمحہ فکریہ

اسرائیل، امریکہ، بھارت نہیں چاہتے ، پاک افغان تعلقات بہتر ہوں،تنظیم اسلامی

حیدر آباد(نمائندہ دنیا)ترکیہ کا پاک افغان مذاکرات میں ثالثی سے دستبردار ہونا لمحۂ فکریہ ہے ۔ وادی تیراہ میں متوقع فوجی آپریشن سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خدشہ ہے ، جو کسی طور پر بھی ملکی مفاد میں نہیں۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ برادر ہمسایہ مسلم ممالک پاکستان اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر ترکیہ کا یہ اعلان کہ وہ دونوں ممالک کے مابین امن مذاکرات میں ثالثی کے کردار سے دستبردار ہو رہاہے ، ایک بہت بڑا دھچکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ابلیسی اتحادِ ثلاثہ یعنی اسرائیل، امریکہ اور بھارت چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کسی صورت بہتر نہ ہوں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری رکھیں تاکہ مستقبل کا وہ خراسان وجود میں نہ آسکے ، جہاں سے فوجیں حضرت مہدیؒ کی نصرت کیلئے جائیں گی، اور اُنہیں فتح حاصل ہوگی۔ دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوگا اور اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کا دنیا بھر میں نفاذ ہوگا جس کی برکات سے ساری دنیا استفادہ کریگی۔ امیرتنظیم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو چاہیے کہ مسلم ممالک ہونے کے ناطے باہمی تعلقات کو دینی تعلیمات کے مطابق استوار کریں تاکہ دشمن کے مذموم مقاصد خاک میں مل سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں