نیپا واقعہ ،مقدمے کی درخواست پر وکلا سے دلائل طلب

نیپا واقعہ ،مقدمے کی درخواست پر وکلا سے دلائل طلب

میئر ،واٹر بورڈ ، بی آر ٹی کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئیقتل بالسبب کے ساتھ قتل عمد کی سیکشن 302بھی لگانا چاہیے ،درخواست گزار

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت نے نیپا کے قریب مین ہول میں گر کر کم سن ابراہیم کے جاں بحق ہونے پرمیئر کراچی ، ٹاؤن چیئرمین، واٹر بورڈ اور بی آر ٹی کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست پر میئر کراچی اور دیگر فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کر لیے ۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی ہے ۔ دوران سماعت درخواست گزار شیخ ثاقب احمد ایڈووکیٹ کی جانب سے عدالت میں دلائل دیئے گئے ۔ درخواست گزار کااپنے دلائل میں کہنا تھاکہ ایک جرم ہوا ہے پولیس کو سیکشن 154 کا بیان لے کر مقدمہ درج کرنا چاہیے۔

پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ والدین قانونی کاروائی نہیں چاہتے ، لیکن سپریم کورٹ کہتا ہے کہ اگر جرم ہوا ہے تو کوئی بھی شخص اس پر مقدمہ کروا سکتا ہے ، معافی تلافی بھی ہو تو وہ سیکشن 345 کے تحت ہوتی ہے مقدمے اندراج کے بعد، مقدمے میں قتل بالسبب کے ساتھ قتل عمد کی سیکشن 302 بھی لگانا چاہیے ، مارنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن فریقین کو معلوم تھا اس عمل سے کسی کی جان جا سکتی ہے ، یہ موقف اپناتے ہیں کہ ڈھکن لگایا تھا لیکن وہ ہیروئنچی لے گئے ، لیکن یہ انکا فرض ہے کہ ڈھکن لگانے کے بعد اس کا خیال بھی کیا جائے ۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں