منشیات فروشوں کو سزائے موت دی جائے ،مولانا بشیر فاروق
طلبا نشے میں مبتلا ،سعودیہ کی طرح پاکستان میں یہ قانون کیوں نہیں بن سکتا؟ مسائل کے حل کے لیے طریقہ کار آسان بنائے جائیں ،افسران سے گفتگو
کراچی(سٹی ڈیسک)سیلانی ویلفیئر کے بانی اور چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے کہا ہے کہ ملک میں منشیات کا کاروبار تیزی سے پھیل رہا ہے ،اخباری رپورٹس کے مطابق پاکستان کے تعلیمی اداروں میں 30 لاکھ طلبہ و طالبات منشیات استعمال کررہے ہیں،اگر سعودی عرب میں منشیات فروشی پر سزائے موت ہوسکتی ہے تو یہ قانون پاکستان میں کیوں نہیں بن سکتا؟۔منشیات فروشوں کے خلاف سخت ترین اقدامات اورسزائے موت جیسے قوانین پاس کرنے کی ضرورت ہے ، بیورو کریسی کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل حل کرے اور مسائل کے حل کے لیے طریقہ کار کو آسان بنائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیلانی ہیڈ آفس کا دورہ کرنے والے اعلیٰ سرکاری افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔39 ویں سینئر مینجمنٹ کورس سے تعلق رکھنے والے 32 رکنی وفد نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا )کے توسط سے گزشتہ روز سیلانی ہیڈ آفس کا دورہ کیا اور سیلانی کی خدمات کو سراہا۔ سیلانی کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد غزال ،سیلانی ایجوکیشن بورڈ کے سربراہ افضل چامڑیہ ،ٹرسٹی عارف لاکھانی،سید ابو فیصل اور دیگر شعبہ جاتی سربراہوں نے وفد کی آمد پر ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔وفد کو انتظامی دفاتر کے علاوہ جاب بینک،ویلفیئر،میڈیکل ،آئی ٹی کلاسز کا دورہ بھی کرایا گیا۔وفد اراکین نے سائلین سے براہ راست گفتگو کی اور ان کے مسائل حل کے طریقہ کار کا مشاہدہ کیا۔