بدین میں آلودہ پانی سے امراض پھیلنے لگے ، 3افراد ہلاک

بدین میں آلودہ پانی سے امراض پھیلنے لگے ، 3افراد ہلاک

شادی لارج، کھوسکی ونواحی علاقوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیںگردے فیل، کینسر ہونے سے اموات، واقعات سے مقامی آبادی خوفزدہ

پنگریو (نمائندہ دنیا)ضلع بدین میں آلودہ سے امراض پھیلنے لگے ، شادی لارج، کھوسکی اور گرد و نواح میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور آلودہ پانی کے استعمال کے باعث 3 افراد لقمہ اجل بن گئے ، علاقے میں کینسر، گردوں کے امراض، ٹی بی اور دیگر موذی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ شادی لارج کے قریب نیوی چک کے رہائشی 65 سالہ صوفی ظفر اقبال بٹ انتقال کر گئے ۔ اسی طرح ٹاؤن کمیٹی شادی لارج کے گاؤں بھریو بھوت کے رہائشی سماجی رہنما اور پرائمری استاد گل حسن بھوت کا 17 سالہ بیٹا زبیر گل گردوں کے عارضے میں مبتلا تھا جو دم توڑ گیا۔ دوسری جانب شادی لارج کے قریب گاؤں حاجی بڈھو خان جونیجو میں کراچی پریس کے منیجر شاہ نواز جونیجو کی والدہ پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق بدین اور ٹنڈوباگو تعلقوں سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران کینسر، گردوں کی خرابی، ٹی بی، ہڈیوں اور دیگر مہلک بیماریوں کے باعث 50 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں قبائلی چک، مٹھی، چاکر پنہور، مٹھو چانڈیو، بھڈمی، سیرانی، بھگڑا میمن، سعید خان بھرگڑی، پیر بودلو، شادی لارج، کھوسکی، خلیفو قاسم، محمد خان بھرگڑی، اولیاء جرکس، سید سمن سرکار، پنگریو اور دیگر ساحلی بستیاں شامل ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیم نالوں کا پانی برسوں سے نہری نظام میں شامل کیا جارہا ہے جبکہ نہروں اور شاخوں میں میٹھے پانی کی مسلسل قلت کے باعث زیر زمین پانی بھی آلودہ اور زہریلا ہو چکا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں