اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں خاتون تفتیشی افسر روبینہ شاہین سے متعلق وائرل ویڈیو اور 22A لڑکیوں کے مبینہ ریپ کے دعوؤں کے تناظر میں درج اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔
عدالت میں متاثرہ لڑکی نے زیر دفعہ 164 ضابطہ فوجداری اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے اغواء اور زیادتی کے الزامات کو غلط قرار دے دیا۔ متاثرہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے نریش کے ساتھ گئی تھی۔ اس نے اپنے بیان میں کہا کہ نریش اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور دونوں نے پسند کی شادی کی ہے ۔ لڑکی نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اغواء اور زیادتی کا مقدمہ جھوٹا ہے جبکہ پولیس انہیں ہراساں کر رہی ہے ۔ فاضل جج کے استفسار پر کہ وہ کس کے ساتھ جانا چاہتی ہے ، لڑکی نے جواب دیا کہ اس کے گھر والوں کو اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں، اس لیے وہ اپنے شوہر کے گھر جانا چاہتی ہے ۔ عدالت نے متاثرہ لڑکی کا بیان قلمبند کرنے کے بعد لڑکی کے تحفظ کے لیے ملزم نریش کو 50 ہزار روپے کے حفاظتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت جاری کردی۔