دیہی سندھ میں آلودہ پانی سے خطرناک بیماریاں پھیلنے لگیں
اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، یرقان، جلدی، گردوں سمیت دیگر امراض شاملصاف پانی عدم فراہمی، نکاسی بہتر نہ بنانے پرصورتحال بگڑنے کا خدشہ، ماہرین
پنگریو (نمائندہ دنیا)دیہی سندھ میں آلودہ پانی سے بیماریاں خطرناک حد تک پھیلنے لگیں۔ پینے کے صاف پانی کا بحران مسلسل سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ، سجاول، ٹھٹھہ، سانگھڑ اور دیگر اضلاع کے متعدد دیہات میں شہریوں کو آج بھی صاف اور محفوظ پانی میسر نہیں، جس کے باعث آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور صفائی کے نظام کو فوری طور پر بہتر نہ بنایا گیا تو آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے ۔ دیہی علاقوں میں بیشتر خاندان نہروں، کھالوں، کھلے تالابوں یا کم گہرے ہینڈ پمپوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان ذرائع کا پانی اکثر جراثیم، کیمیائی آلودگی اور فضلے کی آمیزش سے انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی کے مسلسل استعمال سے اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، یرقان، جلدی امراض اور گردوں سے متعلق متعدد بیماریاں پھیل رہی ہیں، جبکہ سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کو ہے ۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کی بے ترتیبی، زیر زمین پانی کی گرتی سطح، سمندری پانی کی پیش قدمی، پرانی واٹر سپلائی اسکیموں کی خراب حالت اور آبادی میں اضافے نے بھی صاف پانی کے بحران کو مزید شدید کر دیا۔ کئی دیہات میں سرکاری پانی فراہمی کے منصوبے یا تو ناکارہ ہو چکے ، جس سے شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments