میرپور خاص:ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم، قتل کا مجرم بری
سکندر لغاری کو25سال قید بامشقت سنائی گئی تھی، فوری رہا کرنے کا حکم6برس قید کاٹ چکا، شواہد سزا کیلئے ناکافی تھے ، ایڈووکیٹ مظفر علی لغاری
میرپور خاص (بیورو رپورٹ)سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ میرپورخاص نے سال 2020 میں درج قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم کی نظرثانی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے باعزت بری کرنے کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے سال 2020 میں میرواہ گورچانی تھانے کی حدود میں درج قتل کے مقدمے میں 25 سال قید بامشقت کا سزا یافتہ مجرم سکندر علی لغاری ولد پیارو لغاری کی نظرثانی کی اپیل پر سماعت ہوئی، عدالت مجرم کے وکیل مظفر علی لغاری کے تفصیلی قانونی دلائل اور مقدمے کے ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا، عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ مظفر علی لغاری نے کہا کہ استغاثہ مجرم کے خلاف جرم ثابت کرنے کیلئے قابلِ اعتماد اور ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جبکہ مقدمے میں موجود شواہد سزا برقرار رکھنے کیلئے ناکافی تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے استغاثہ اور دفاع کے دلائل سننے کے بعد اپیل منظور کرتے ہوئے سکندر علی لغاری کو بری کرنے اور اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہوں تو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے ۔ واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے سکندر علی لغاری کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے 25 سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے باعث وہ گزشتہ تقریباً چھ برس سے جیل میں قید تھے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments