گاڑی نے رکشے میں بیٹھی بچی کو کچل دیا ،ڈرائیور گرفتار
بچی کے والد کا ڈرائیور پر نشے میں ہونیکا الزام، انصاف کی فراہمی کا مطالبہ ڈی ایچ اے لنک روڈ پر گاڑی الٹنے سے پولیس اہلکار جاں بحق، افسر زخمی
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)طارق روڈ پر تیز رفتار گاڑی نے رکشے میں بیٹھی بچی کو کچل دیا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئی۔نجی ٹی وی کے مطابق اللہ والی چورنگی کے پاس رکشہ گلی میں کھڑا تھا، اس دوران تیز رفتار گاڑی نے اسے ٹکر ماری۔رکشے میں سوار تین افراد نے چھلانگ لگا کر جان بچائی لیکن 9 سالہ بچی جنت زندگی کی بازی ہار گئی۔ بچی کے والد نے کہا کہ ڈرائیور نشے میں لگ رہا تھا، میرے ساتھ ظلم ہوا ہے انصاف فراہم کیا جائے ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے شارع فیصل پر میٹروپول کے قریب تیز رفتار کار کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس نے خاتون کا ڈرامہ بے نقاب کر دیا۔پولیس نے بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر کار میں سوار خاتون نے خود گاڑی چلانے کا دعویٰ کیا،تاہم فوٹیج سے ثابت ہوا کہ کار دراصل نوجوان چلا رہا تھا اور خاتون نے پولیس کو گمراہ کر کے ملزم کو موقع سے فرار کروایا۔علاوہ ازیں ڈی ایچ اے سٹی لنک روڈ کے قریب پولیس افسر کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا، حادثے کے باعث تیز رفتار گاڑی حفاظتی دیوار سے ٹکرا کر الٹ گئی۔حادثے میں ایک اہلکار جاں بحق جبکہ پولیس افسر زخمی ہو گیا۔ جاں بحق اہلکار کی شناخت پرویز علی کے نام سے ہوئی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments