پاکستان کا شوگر کے پھیلاؤ کے اعتبار سے دنیا میں پہلا نمبر
ہسپتالوں میں انسولین کی قلت نے لاکھوں مریضوں کی مشکلات بڑھ گئیں
لاہور (بلال چودھری )پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ملک شوگر کے پھیلاؤ کے اعتبار سے دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے ، دوسری جانب پنجاب کے متعدد سرکاری ہسپتالوں میں انسولین کی قلت نے لاکھوں مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں، جبکہ پنجاب میں مریضوں کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ ماہرین کے مطابق ہر تین میں سے ایک بالغ فرد شوگر کا مریض ہے ، پنجاب کے رواں مالی سال کے بجٹ میں انسولین اور شوگر کی ادویات کے لیے مسلسل دوسرے سال ایک ارب پانچ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں، جن میں میو ہسپتال، لاہور جنرل ہسپتال، سروسز ہسپتال، چلڈرن ہسپتال اور سر گنگا رام ہسپتال شامل ہیں، میں انسولین کی مختلف اقسام کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔سابق صوبائی وزیر صحت پروفیسر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ ذیابیطس کی روک تھام کے لیے ملک میں نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہیے اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی، کیونکہ پاکستان میں اموات اور بیماریوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ذیابیطس ہے ۔