ننکانہ صدر پولیس کی غیر قانونی حراست سے خاتون برآمد
عدالت کا ڈی پی او کو مقدمے کا حکم، 14 روز میں تفتیش کی رپورٹ طلب
ننکانہ صاحب (خبر نگار )ننکانہ صدر پولیس کی غیر قانونی حراست سے خاتون برآمد ،عدالت نے ڈی پی او ننکانہ صاحب کو متعلقہ پولیس اہلکاروں کیخلاف تین روز کے اندر مقدمہ درج کرنے اور 14 روز میں تفتیش مکمل کرکے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔صدیق کالونی کی رہائشی شمیم بی بی نے اپنی جواں سالہ بیٹی شکیلہ پروین اور بیٹے مدثر کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پرعدالت سے رجوع کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ 31 جولائی کو ایس ایچ او آصف اقبال، کانسٹیبل ظہیر ، کاشف اور دیگر پولیس اہلکار زبردستی گھر داخل ہوئے ، شکیلہ پروین اور مدثر کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ اہلخانہ سے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا اور رقم نہ دینے پر جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکی دی گئی۔ درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب عبدالحفیظ بھٹہ نے بیلف مقرر کیا جس نے تھانہ صدر ننکانہ پہنچ کر ریکارڈ اور رجسٹر چیک کیا تو شکیلہ پروین کی گرفتاری یا کسی مقدمے کے تحت حراست کا کوئی اندراج موجود نہیں تھا۔ بیلف کی کارروائی کے دوران شکیلہ کو تھانے کے کمرے سے برآمد کرلیا گیا ۔دوسری جانب پولیس نے عدالت میں تحریری مؤقف اختیار کیا کہ شکیلہ کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود تھانے آ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ عدالت نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ پولیس سی سی ٹی وی ریکارڈنگ پیش نہ کر سکی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments