ادویات چوری ، 3ملازم سیکرٹری ڈسپوزل پر ، 1معطل

ادویات چوری ، 3ملازم سیکرٹری ڈسپوزل پر ، 1معطل

ایف آئی آر میں تمام معاملے کو گول کرکے پرانا ثابت کرنے کی کوشش

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے )لاہور جنرل ہسپتال میں ادویات چوری کا معاملہ ، لاہور جنرل ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے درج کرائی جانے والی ایف آئی آر کو حقائق کے منافی درج کرا دیا گیا۔دنیا کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے ادویات چوری میں ملوث 3 ملازمین کو سیکرٹری ڈسپوزل جبکہ ایک مین کریکٹر کو معطل کرکے انکوائری کا آغاز کردیا ہے ۔تفصیل کے مطابق ایف آئی آر میں تمام معاملے کو گول کرکے پرانا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔دوسری جانب لاہور جنرل ہسپتال میں ادویات چوری کے معاملے پر انتظامیہ نے لاہور نیوز کی خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تین ملازمین کو معطل کر دیا ہے اور معطل ہونے والوں میں ڈی ایم ایس ڈاکٹر تنویر میاں حامد ندیم، فارمیسی ٹیکنیشن محمد سعد اللہ ظفر اور وارڈ اٹینڈنٹ راشد شامل ہیں۔ میاں حامد ندیم کے سوا تینوں کو سیکرٹری ہیلتھ کی ڈسپوزل پر بھیج دیا گیا ہے ۔ایم ایس نے ایف آئی آر کو گول کرنے اور حقائق کے منافی ہونے پر مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایف آئی آر حقائق کے منافی نہیں ہے تو اس کو تبدیل کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب پرنسپل لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ مریضوں کی ادویات میں خیانت کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...