ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کا خدشہ ،مریض پریشان
کوٹ ادو (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ملک میں بڑھتی مہنگائی کے ساتھ ادویات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خدشات نے مریضوں اور ان کے لواحقین میں تشویش پیدا کر دی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث دواسازی کے خام مال کی فراہمی متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں تیار ہونے والی بیشتر ادویات کے لیے استعمال ہونے والا خام مال بڑی حد تک بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے ، جس میں تقریباً 55 سے 60 فیصد بھارت اور 40 سے 45 فیصد چین سے آ رہا ہے ۔ طبی ماہرین اور دواساز صنعت کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں جنگ یا تجارتی رکاوٹیں برقرار رہیں تو خام مال کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے ، جس کے نتیجے میں ادویات کی تیاری مہنگی ہونے کے ساتھ مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال طویل ہو گئی تو کینسر، ذیابیطس، انسولین اور دل کے امراض کی اہم ادویات سمیت دیگر دوائیں مہنگی ہو سکتی ہیں، جس سے لاکھوں مریض متاثر ہوں گے ، کیونکہ یہ بیماریاں مسلسل علاج اور ادویات کی پابندی کی متقاضی ہیں۔اسی طرح بچوں کے فارمولا دودھ کی سپلائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ یہ زیادہ تر بیرون ملک سے درآمد ہوتا ہے ۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں بے قابو اضافے کو روکا جائے اور ضروری ادویات کی دستیابی کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے ۔