ٹی بی قابل علاج،بروقت تشخیص ضروری،ڈاکٹر اعظم
6ماہ تک ادویات کامکمل کورس مریض کو مکمل صحت یاب کردیتا ،خطاب
ملتان (لیڈی رپورٹر)نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کے شعبہ امراضِ سینہ و تپ دق کے زیر اہتمام ورلڈ ٹی بی ڈے کے موقع پر آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت شعبہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اعظم مشتاق نے کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ورلڈ ٹی بی ڈے ہر سال 24 مارچ کو منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں تپ دق (ٹی بی) جیسے مہلک مگر قابلِ علاج مرض کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ 1882 میں اسی روز جرمن سائنسدان رابرٹ کوچ نے ٹی بی کے جراثیم دریافت کئے ، جس سے تشخیص اور علاج میں پیش رفت ممکن ہوئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ٹی بی دو اقسام کی ہوتی ہے ، پلمونری ٹی بی جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے اور ایکسٹرا پلمونری ٹی بی جو جسم کے دیگر حصوں جیسے غدود، ہڈیوں، دماغ اور گردوں کو متاثر کرتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر اعظم مشتاق نے کہا کہ یہ مرض قابلِ علاج ہے بشرطیکہ مریض بروقت تشخیص کروا کر کم از کم 6 ماہ تک ادویات کا مکمل کورس کرے ۔ حکومت کی جانب سے ٹی بی کا علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ دو ہفتوں سے زائد کھانسی، بخار یا وزن میں کمی کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ تقریب کے اختتام پر کیک کاٹا گیا اور آگاہی پمفلٹس تقسیم کئے گئے ۔