مہنگا کاغذ،درسی کتب کی لاگت میں اضافہ،طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان

مہنگا کاغذ،درسی کتب کی لاگت میں اضافہ،طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان

68گرام کاغذ کی قیمت ملزمیں 190روپے کلو، بعض منظوریوں کے تحت 210روپے کے حساب سے خریدنے کی اجازت،مخصوص ملز سے خریداری سے شبہات جنم لینے لگے

ملتان(خصوصی رپورٹر)مہنگا کاغذ، پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ کے لئے معیاری اور سستی درسی کتب کا حصول مزید مشکل ہوگیا تفصیل کے مطابق درسی کتب کے لئے مہنگے کاغذ کی منظوری کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ۔ذرائع کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ کے لئے معیاری اور سستی درسی کتب کا حصول مزید مشکل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق 68 گرام کاغذ کی قیمت ملوں میں تقریباً 180 سے 190 روپے فی کلو کے درمیان ہے ، جبکہ بعض منظوریوں کے تحت یہی کاغذ 210 روپے فی کلو کے حساب سے خریدنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ اس فرق کے باعث درسی کتب کی مجموعی لاگت میں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر صرف دو مخصوص ملز سے کاغذ کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے ، جس پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس عمل میں متعلقہ افسروں کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔مزید برآں، درسی کتب میں استعمال ہونے والے کاغذ کے معیار اور انتخاب کا اختیار ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور ڈپٹی ڈائریکٹر فیلڈ اینڈ مانیٹرنگ کے پاس ہے ۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ معیاری کاغذ کے استعمال اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے کیا گیا ہے ۔ماہرین تعلیم کے مطابق مہنگے کاغذ کے استعمال سے درسی کتب کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کا براہ راست اثر پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ اور ان کے والدین پر پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سستی کتب کا حصول مشکل ہو سکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق مخصوص ملز سے کاغذ کی خریداری کے فیصلے سے پبلشرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں کتابوں کی تیاری اور قیمتوں کا پورا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں