خسرہ اموات کیس، محتسب پنجاب کا نوٹس، رپورٹ طلب

 خسرہ اموات کیس، محتسب پنجاب کا نوٹس، رپورٹ طلب

خسرہ اموات کیس، محتسب پنجاب کا نوٹس، رپورٹ طلب ڈی جی ہیلتھ کو ذمہ داروں کا تعین ، رپورٹ 30 روز میں پیش کرنے کی ہدایت

 میلسی (نمائندہ دنیا ) ایک سال قبل تحصیل میلسی کے نواحی علاقے موضع سندھل میں مبینہ خسرے کی وبا سے چار معصوم بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر محتسب پنجاب عائشہ حامد نے محکمہ صحت وہاڑی اور توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) کی مبینہ غفلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب کو فوری کارروائی، ذمہ دار افسران کے خلاف انضباطی اقدامات اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات منظرعام پر لانے کی ہدایت کر دی ہے ۔ جولائی 2025ء میں مزدور محمد عمران کے چار سالہ بیٹے فرحان اور چھ ماہ کے جڑواں بچوں ریحان اور محمد خان سمیت چار کمسن بچے مبینہ طور پر خسرے سے جاں بحق ہوئے تھے ، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب کی جانب سے ڈاکٹر سمرا خرم کی سربراہی میں تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنا تھی۔

، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود رپورٹ منظرعام پر نہ آسکی اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس صورتحال پر مقامی شہری عرفان محمود کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے محتسب پنجاب نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اپنے تحریری فیصلے میں محتسب پنجاب نے قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی وہاڑی کی رپورٹ میں معاملے کی سنگینی کا مناسب ادراک موجود نہیں اور متعلقہ اداروں نے اپنی انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت برتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی صحت جیسے حساس معاملات میں تاخیر اور غیر سنجیدگی ناقابل قبول ہے ۔ محتسب پنجاب نے ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب کو ہدایت کی کہ 30 روز کے اندر کارروائی مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ محتسب سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جائے ۔ 

محتسب 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...