ایمرسن یونیورسٹی: تنخواہوں کی کٹوتی پر تنازع شدت اختیار کرگیا
ایمرسن یونیورسٹی: تنخواہوں کی کٹوتی پر تنازع شدت اختیار کرگیامراسلوں کے باوجود انتظامیہ نے فیصلہ واپس لینے کے بجائے معاملہ دوبارہ سنڈیکیٹ ایجنڈے میں شامل کر لیا،اساتذہ
ملتان (خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں اساتذہ کی تنخواہوں میں مبینہ کٹوتیوں کے معاملے پر انتظامی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے ۔ متاثرہ اساتذہ نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب اور محکمہ خزانہ کے واضح مراسلوں کے باوجود انتظامیہ نے فیصلہ واپس لینے کے بجائے معاملہ دوبارہ سنڈیکیٹ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے ، جس سے یونیورسٹی میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے ۔متاثرہ اساتذہ کے مطابق تنخواہوں میں کی گئی کٹوتیوں کے فیصلے پر نظرثانی کے بجائے معاملے کو دوبارہ زیر بحث لایا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یونیورسٹی قوانین اور سروس رولز کے مطابق نہیں ہے ۔ذرائع کے مطابق خزانہ دار اور رجسٹرار کی جانب سے کیے گئے فیصلے پر نظرثانی نہ ہونے کے باعث اساتذہ میں تحفظات پائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ سروس یا پنشن رولز میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کے لیے چانسلر (گورنر پنجاب) کی منظوری ضروری ہوتی ہے ۔اساتذہ نے کہا کہ متعلقہ انتظامی افسران کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں چانسلر کی منظوری لازمی نہیں، جس کے باعث قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کو یونیورسٹی قوانین اور متعلقہ محکموں کی ہدایات کے مطابق حل کیا جائے۔ تاکہ اساتذہ میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments