ٹیکسٹائل ملز ملازمین کا تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج جاری

ٹیکسٹائل ملز ملازمین کا تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج جاری

سابق ایم پی اے ، وکلا اور مزدور رہنماؤں کا واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ

چوک سرورشہید (نمائندہ دنیا)مقامی ٹیکسٹائل ملز کے تقریباً 1200 مزدوروں کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کا مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا، جس کے باعث مزدوروں کا احتجاج مسلسل جاری ہے ۔ مزدوروں نے ملز کے دونوں داخلی راستوں پر احتجاجی کیمپ قائم کر رکھے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ واجبات کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ۔مزدوروں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سابق رکن پنجاب اسمبلی چودھری احسان الحق نولاٹیہ، تحصیل بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاض الحق چانڈیہ، جنرل سیکریٹری ممتاز خان جاٹ اور مزدور رہنما عبدالعزیز پریس کلب چوک سرورشہید پہنچے ، جہاں انہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملز کی بندش مالکان کے باہمی تنازع کا نتیجہ ہے ، مگر اس کا نقصان مزدوروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان کے مطابق تین ماہ کی تنخواہوں کی مد میں 60 کروڑ روپے سے زائد رقم واجب الادا ہے ، جبکہ مزدور شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملز سے مشینری منتقل کرنے کی کوشش بھی کی گئی، جسے بروقت روک دیا گیا۔چودھری احسان الحق نولاٹیہ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو بلال سلیم اور اسسٹنٹ کمشنر ملک اقبال لانگ نے مزدوروں کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے تعاون کیا، تاہم ملز انتظامیہ تاحال مسئلے کے حل کے لیے آمادہ نہیں۔پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ مزدوروں کی تمام واجب الادا تنخواہیں فوری ادا کی جائیں۔ مقررین نے واضح کیا کہ مطالبات منظور ہونے تک پرامن احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بھی معاملے کا نوٹس لے کر مزدوروں کو ان کا حق دلانے کی اپیل کی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...