دوران ڈکیتی ماں بیٹے کا قتل ،تین ماہ بعد بھی ملزم گرفتار نہ ہوسکے
ورثا کا وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے نوٹس اور نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ
خانیوال (ڈسٹرکٹ رپورٹر، نامہ نگار)دورانِ ڈکیتی ماں اور بیٹے کے قتل کے المناک واقعے کو تین ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہ آ سکے ۔ مقتولہ فرحانہ بی بی اور ان کے بیٹے ذیشان کے ورثا انصاف کے منتظر ہیں جبکہ پولیس کی تحقیقات ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے دورانِ ڈکیتی مزاحمت پر فرحانہ بی بی اور ان کے بیٹے ذیشان کو قتل کر دیا تھا اور گھر سے طلائی زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے تھے ۔ورثا اور اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ جدید وسائل اور تفتیشی سہولیات کے باوجود ملزمان کی عدم گرفتاری باعث تشویش ہے۔
ان کے مطابق اس سنگین مقدمے میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس سے متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے ۔متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی کامران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے ، تفتیش کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ذمہ دار ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دلائی جائے ۔اہل علاقہ نے بھی مطالبہ کیا کہ اس حساس مقدمے کی شفاف اور مؤثر تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔ اور عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments