گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال کاتیسرا روز، کاروباری سرگرمیاں متاثر

گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال کاتیسرا روز، کاروباری سرگرمیاں متاثر

ٹرانسپورٹرز کا پیر کے مذاکرات میں چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملی پیش رفت کا مطالبہ

ملتان (لیڈی رپورٹر) گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد گروپ اور پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے 8 اگست کو دی گئی ہڑتال کی کال تیسرے روز میں داخل ہوگئی، جس کے باعث مال بردار ٹرانسپورٹ کی بندش سے صنعت، تجارت، منڈیوں اور مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے لگیں۔گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ملتان کے صدر ملک اقبال نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹ ملکی معیشت کی شہ رگ ہے ، پہیہ رکنے سے فیکٹریوں، صنعتوں، منڈیوں اور دکانوں سمیت پورا کاروباری نظام متاثر ہوتا ہے ۔ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو ملکی معیشت سے جڑا اہم معاملہ سمجھتے ہوئے فوری حل کی جانب پیش رفت کرے ۔جنرل سیکرٹری آفتاب احمد شیخ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکسز، پٹرولیم لیوی، ٹول ٹیکس، روٹ پرمٹ اور فٹنس سمیت دیگر اخراجات نے مشکلات بڑھا دی ہیں۔

جبکہ بھاری جرمانوں سے بھی ٹرانسپورٹ شعبہ دباؤ کا شکار ہے ۔چیئرمین رانا محمد جاوید نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات اور لیوی میں کمی، ٹول ٹیکس و دیگر فیسوں میں ریلیف، روٹ پرمٹ اور فٹنس نظام آسان بنانے کے ساتھ جرمانوں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے ۔سرپرست اعلیٰ سید فرخ عباس ہمدانی نے کہا کہ اوورلوڈنگ اور ایکسل لوڈ قوانین ملک بھر میں یکساں نافذ کئے جائیں۔ سینئر نائب صدر خالد خان مروت نے کہا کہ اخراجات میں اضافے کے باعث موجودہ فریٹ ریٹس پر کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے ۔رہنماؤں نے مطالبات پر مثبت پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...