عدالتی حکم کے باوجود زمین پر قبضے کی کوشش، بیوہ کی دہائی
بخت بی بی کا پولیس پر بیٹوں کو حراست میں رکھنے اور دوبارہ قبضے کی کوشش کا الزام
وہاڑی (نمائندہ خصوصی)تھانہ صدر وہاڑی کی حدود چک نمبر 220 ای بی کی رہائشی بیوہ بخت بی بی نے اپنے بیٹوں، بچوں اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود بااثر زمیندار رانا اختر حسین مبینہ طور پر پولیس کی مدد سے ان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او وہاڑی سے انصاف کی اپیل کی ہے ۔بخت بی بی کے مطابق انہوں نے اپنے گاؤں کے رہائشی رانا اختر حسین ولد رفیع محمد کو اپنی زمین ٹھیکے پر دے رکھی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ رانا اختر نے بددیانتی سے مختلف اوقات میں ان سے اور ان کے بیٹوں سے بیانات حاصل کرکے رقبہ اپنے نام منتقل کرانے کی کوشش کی۔ معاملے پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا، جس نے 9 ستمبر تک حکم امتناعی جاری کیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود ان کی زمین پر کاشت نہیں ہوسکی اور رقبہ بنجر پڑا ہے ، جس سے گھر میں معاشی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ایس ایچ او حسن کیانی کی مبینہ معاونت سے پولیس نے ان کے بیٹوں عبدالجبار، طاہر حسین اور خضر حیات کو حراست میں لیا اور دو روز تک بغیر مقدمہ درج کیے حوالات میں رکھا، تاہم اہل علاقہ کی مداخلت پر انہیں رہا کردیا گیا۔بخت بی بی کے مطابق بعدازاں پولیس بھاری نفری اور ٹریکٹروں کے ہمراہ دوبارہ پہنچی، تاہم اہل علاقہ کی مداخلت پر واپس چلی گئی۔ انہوں نے اپیل کی کہ عدالت کے فیصلے تک پولیس انہیں ہراساں نہ کرے اور گھروں پر بار بار چھاپے نہ مارے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments