عالمی معیار کا چاول پیدا کرنا اہم ترین ضرورت،ڈاکٹر آصف
کیڑے مار زہروں کے اثرات کی روک تھام کیلئے جدید طرز عمل کو فروغ دینا چاہئے
ملتان(وقائع نگار خصوصی )یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے تعاون سے چاول میں کیڑے مار زہروں کے بقایا اثرات کی حد (ایم آر ایل) اور افلا ٹاکسن کے تدارک کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں زرعی ماہرین، اساتذہ، محققین اور متعلقہ شعبوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد چاول کی فصل میں کیڑے مار زہروں کے بقایا اثرات اور افلا ٹاکسن کی روک تھام، نگرانی اور مؤثر انتظام کے لئے عملی حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا تاکہ چاول کا معیار بہتر بنایا جا سکے ، انسانی صحت کا تحفظ یقینی ہو اور ملکی چاول کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات کو فروغ دیا جا سکے ۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ چاول پاکستان کی اہم نقد آور اور برآمدی فصل ہے ، اس لئے عالمی معیار کے مطابق محفوظ اور معیاری چاول کی پیداوار وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی مسابقت برقرار رکھنے کے لئے کیڑے مار زہروں کے بقایا اثرات کو مقررہ حدود میں رکھنے ، افلا ٹاکسن کی روک تھام اور جدید سائنسی و زرعی طریقوں کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں میں جدید زرعی طریقوں، محفوظ زرعی ادویات کے استعمال اور فصل کے بعد مناسب ذخیرہ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ناگزیر ہے تاکہ پاکستانی چاول کا معیار عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے ۔ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز پنجاب ڈاکٹر عامر رسول نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب کیڑے مار زہروں کے متوازن اور محفوظ استعمال، معیاری زرعی ادویات کی فراہمی اور فصلوں میں ان کے بقایا اثرات کو مقررہ حدود میں رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments