نوابزادہ نصراللہ پر تنقید وزیر دفاع کی تاریخی لاعلمی، نوید مکول

نوابزادہ نصراللہ پر تنقید وزیر  دفاع کی تاریخی لاعلمی، نوید مکول

مونڈکا (نامہ نگار) پیپلز پارٹی پنجاب کونسل کے رکن اور امیدوار حلقہ پی پی 271 میاں نوید اصغر مکول نے ۔۔۔

کہا ہے کہ وزیر دفاع کی جانب سے نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی تقرری پر اعتراض تاریخی حقائق سے لاعلمی کا ثبوت ہے ۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے تحریک پاکستان، جمہوریت کے فروغ اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔امجد خان میرانی کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوابزادہ نصراللہ خان نے 1928ء میں مجلس احرار کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور تحریک خلافت میں بھی کردار ادا کیا۔ بعد ازاں تحریک پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح اور مادر ملت فاطمہ جناح کے ساتھ جدوجہد کی۔ 1940ء میں قائم ہونے والی کشمیر کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے ، جس کے صدر غلام عباس اور جنرل سیکرٹری علامہ محمد اقبال تھے ۔میاں نوید مکول کے مطابق قیام پاکستان کے بعد نوابزادہ نصراللہ خان نے جمہوریت کے فروغ کو اپنی سیاست کا محور بنائے رکھا۔ مختلف آمریتوں اور مارشل لا ادوار میں تقریباً 23 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور 1973ء کے آئین کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ 1993ء میں دونوں ایوانوں کے ارکان نے متفقہ طور پر نوابزادہ نصراللہ خان کو چیئرمین کشمیر کمیٹی منتخب کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا اور مراکش کے شہر کاسابلانکا میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے قرارداد منظور کرانے میں کردار ادا کیا۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...