بستی شاہ گل محمد والی پسماندگی کا شکار، عوام سہولتوں سے محروم

بستی شاہ گل محمد والی پسماندگی کا شکار، عوام سہولتوں سے محروم

بستی شاہ گل محمد والی پسماندگی کا شکار، عوام سہولتوں سے محرومرہنماؤں نے الیکشن میں بڑے وعدے کئے مگر مسائل جوں کے توں برقرار۔۔۔

داودخیل (نمائندہ دنیا )داودخیل کا نواحی علاقہ بستی شاہ گل محمد والی گزشتہ 60 سے 70 سال سے شدید پسماندگی اور محرومیوں کا شکار چلا آ رہا ہے ۔ ہر سیاسی دور میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے الیکشن کے موقع پر عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے ، مگر عملی طور پر آج تک مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔بستی شاہ گل محمد والی میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کو 60 سال گزر جانے کے باوجود تاحال اپ گریڈ نہیں کیا جا سکا، حالانکہ اپ گریڈیشن کے تمام تقاضے پورے کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح گرلز پرائمری اسکول میں طالبات کو شدید رش کے باعث انتہائی تنگ کمروں میں بٹھایا جاتا ہے اور اسکول کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔علاقے میں ڈیرہ سید محمد والا، ڈیرہ نواز اتراء اور ڈیرہ سیداں والا تک پختہ سڑک کی سہولت موجود نہیں، جس کے باعث طلبہ و طالبات، خواتین، بزرگ اور مریض شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ بارش کے بعد راستے اس قدر خراب ہو جاتے ہیں کہ پیدل چلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ، جبکہ کسی ہنگامی صورتحال، فوتگی یا مریض کی منتقلی کی صورت میں گاڑیوں کا گزرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت کے نمائندے انتخابات کے دوران دعوے تو کرتے ہیں، مگر کامیابی کے بعد اس بستی کا رخ تک نہیں کرتے ، جس کے باعث علاقہ مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے ۔مقامی رہائشیوں نے ایم پی اے ، ایم این اے اور متعلقہ اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ بستی شاہ گل محمد والی میں تعلیم، صحت اور سڑکوں کی بنیادی سہولتیں فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ علاقے کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں اور عوام کو پسماندگی سے نجات ملے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں