اسلحہ لائسنسوں کی درخواستوں پر عملدرآمد ٹھپ ہو کرر ہ گیا

اسلحہ لائسنسوں کی درخواستوں پر عملدرآمد ٹھپ ہو کرر ہ گیا

اختیارات محدود کرنے سے کروڑوں کے حکومتی ریونیو کی وصولی بھی رک گئی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) وزارت داخلہ حکومت پنجاب کی جانب سے مینوئل اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے ڈویژنل و ضلعی افسران کے اختیارات محدود کرنے کے باعث جہاں ہزاروں کی تعداد میں درخواستوں پر عملدرآمد ٹھپ ہو کرر ہ گیا ہے وہاں کروڑوں روپے کے حکومتی ریونیو کی وصولی بھی رک گئی ، قبل ازیں ڈویژنل کمشنرز کو زیر التواء لائسنسوں کی تصدیق کا عمل مکمل کرنے کیلئے دو مرتبہ ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے ،اور معاملات شفاف بنانے کی ہدایت بھی جاری کی تاہم ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں قوانین میں ترامیم اور اختیارات کے تعین کیلئے متعدد مرتبہ گائیڈ لائن جاری ہونے کے باوجود مینول اسلحہ لائسنسوں کو ڈیجٹیل کارڈ پر منتقل کرنے کیلئے ان کی تصدیق کا عمل مختلف پیچیدگیوں اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے مسلسل التواء کا شکار رہا،اور حکومت نے اختیارات واپس لے لئے ، جس کی وجہ سے ہزاروں درخواستوں پر عملدرآمد بھی رک گیا،مجموعی طور پر پنجاب بھر میں مینول اسلحہ لائسنسوں کی رجسٹریشن کیلئے جمع کروائی گئی 1لاکھ سے زائد درخواستوں میں سے ضلع سرگودھا کی 4ہزار213،میانوالی 6ہزار719،بھکر 638اور خوشاب کے 1ہزار225درخواستوں بھی التواء میں چلی گئی ہیں۔زیادہ تر درخواستیں ایسی ہیں جن پر عملدرآمد گزشتہ تین سال سے نہیں ہوا اور ان پر فیسوں کا اطلاق بھی اسی تناسب سے ہونا تھا اس طرح اس مد میں جمع ہونیوالا کروڑوں روپے کے ریونیو کی وصولی بھی متاثر ہوئی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں