کمشنر سرگودھا کے احکامات پر 22روز بعد بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا
کمشنر سرگودھا کے احکامات پر 22روز بعد بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا بس سٹینڈ کے لیے جگہ مختص کر کے جلد رپورٹ دیں فوری فنڈز دینے کاوعدہ کیا تھا
سلانوالی(نمائندہ دنیا ) کمشنر سرگودھا کے دورہ سلانوالی کو 22 روز گزر گئے مگر ان کے دیئے گئے احکامات پر عمل درآمد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔سماجی حلقوں نے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے ضلعی و مقامی انتظامیہ کو کمشنر کے دورہ سلانوالی پر دیے گئے احکامات پر من و عن عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا ۔کمشنر سرگودھا حافظ شوکت علی نے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ماہ مئی کے اوائل میں تحصیل ہیڈ کوارٹر سلانوالی کا دورہ کیا تھا ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر سرگودھا حسین رضا احمد چوہدری اور اے ڈی سی آر محمد ابوبکر بھی موجود تھے ۔کمشنر سرگودھا نے تقریباً ساڑھے 22 کروڑ روپے کی لاگت سے پی ایم یو کے نکاسی آب کے منصوبہ کا جائزہ لیا اور اس موقع پر اسسٹنٹ پروجیکٹ ڈائریکٹر چوہدری حامد چٹھہ نے مذکورہ منصوبہ کے متعلق کمشنر کو بریف کیا اس موقع پر کمشنر نے واضح ہدایت کی تھی کہ تعمیراتی منصوبہ میں کسی قسم کی بے قاعدگی برداشت نہیں کی جائے گی مگر عوامی شکایت عام ہے کہ تعمیراتی منصوبہ میں ناقص مٹیریل کا استعمال اور بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔کمشنر کے چوک بلاک نمبر 3 دورہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر حسین رضا احمد چوہدری نے ایم او آئی ایم سی حافظ زیشان سے دریافت کیا کہ چوک بلاک نمبر 3 کا ایریا پی ایم یو کے منصوبہ میں شامل ہے کہ نہیں جواب ملا کہ نہیں جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہمارے پاس فنڈز ہیں ہم یہاں چوک اور چاروں اطراف کی سڑکوں کی بیوٹیفیکیشن کریں گے ۔ڈپٹی کمشنر نے کمشنر کی موجودگی میں چیف آفیسر ایم سی عثمان ثرویا سے دریافت کیا کہ سلانوالی میں جنرل بس سٹینڈ کی ضرورت ہے کہ نہیں جس پر چیف آفیسر موصوف نے کہا کہ بس سٹینڈ کی ضرورت ہے تو ڈپٹی کمشنر نے چیف آفیسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بس سٹینڈ کے لیے جگہ مختص کر کے جلد رپورٹ دیں فوری فنڈز دیں گے اڈا بنے گا۔