1000 سے زائد غیر رجسٹرڈمنی آئل ایجنسیا ں موجود

1000 سے زائد غیر رجسٹرڈمنی آئل ایجنسیا ں موجود

ادارے مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ،غیر قانونی منی آئل ایجنسیوں کی تعداد کڑانہ ہلز کے علاقے میں موجود ،کوٹ مومن دوسرے نمبر پر ہےساہیوال، سلانوالی، بھلوال، بھیرہ، شاہ پور اور متعدد علاقوں میں غیر رجسٹرڈ ایجنسیاں قائم ، ایجنسیاں آبادیوں کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ضلع سرگودھا میں سرکاری پابندیوں کے باوجود ایک ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ منی آئل ایجنسیاں بدستور کام کر رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں،ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں سب سے زیادہ غیر قانونی منی آئل ایجنسیوں کی تعداد کڑانہ ہلز کے علاقے میں موجود ہے ، جبکہ کوٹ مومن دوسرے نمبر پر ہے ۔ اس کے علاوہ ساہیوال، سلانوالی، بھلوال، بھیرہ، شاہ پور اور تحصیل سرگودھا کے مختلف علاقوں میں بھی متعدد غیر رجسٹرڈ ایجنسیاں قائم ہیں،اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر ایجنسیاں زرعی زمینوں پر نصب پیٹر انجنوں کے لیے محدود مقدار میں تیل ذخیرہ کرنے کے لائسنس کی آڑ میں کام کر رہی ہیں۔ حکومت نے چند سال قبل ایسے لائسنس منسوخ کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کا ٹاسک سونپا تھا، تاہم ابتدائی کاغذی کارروائی کے بعد یہ مہم سست روی کا شکار ہو گئی،ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے ضلع بھر میں سروے کر کے تفصیلی رپورٹس ضلعی انتظامیہ کو بھجوائی گئی تھیں، لیکن ان رپورٹس پر بھی تاحال مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا اور معاملہ روایتی سستی کی نذر ہو گیا،شہریوں کے مطابق یہ منی آئل ایجنسیاں نہ صرف          پیٹرولیم مصنوعات سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پر فروخت کرنے میں ملوث ہیں بلکہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ملحقہ آبادیوں کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آتش گیر مادوں کی غیر محفوظ ذخیرہ اندوزی کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں