محکمہ انہار کا دریا کے کنارے حفاظتی پتھر لگانے کا کام شروع

 محکمہ انہار کا دریا کے کنارے حفاظتی پتھر لگانے کا کام شروع

محکمہ انہار کا دریا کے کنارے حفاظتی پتھر لگانے کا کام شروع نامکمل حفاظتی کام کے باعث دریائے جہلم نے دوبارہ کٹاؤ کی صورت اختیار کر لی

بھیرہ (نامہ نگار) دریائے جہلم کے کنارے آباد گاؤں ودھن اور مقامی قبرستان کو دریا کے کٹاؤ سے بچانے کے لیے وزیر مملکت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ اور صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ کی خصوصی کاوشوں سے کروڑوں روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی تھی، جس کے تحت محکمہ انہار نے دریا کے کنارے حفاظتی پتھر لگانے کا کام شروع کیا۔ تاہم مقامی افراد کے مطابق محکمہ انہار کی مبینہ ملی بھگت سے ٹھیکیدار نے منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا اور درمیان میں تقریباً تین سے چار سو فٹ کے حصے میں پتھر نہیں لگائے گئے ۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ نامکمل حفاظتی کام کے باعث دریائے جہلم نے دوبارہ کٹاؤ کی صورت اختیار کر لی ہے ، جس سے دریا کنارے آباد بستی، مقامی قبرستان، زرعی اراضی، کھڑی فصلوں اور مکانات کے دریا برد ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے مکینوں نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی شدید کٹاؤ کے باعث آبادی کو خطرات لاحق ہو گئے تھے ۔جس کے پیش نظر بھرتھ برادران کی کوششوں سے فنڈز فراہم کیے گئے تھے تاکہ مستقل بنیادوں پر حفاظتی بند اور پتھر لگا کر آبادی کو محفوظ بنایا جا سکے ، مگر منصوبے کی نامکمل تکمیل نے ایک بار پھر صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر سرگودھا سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے ،

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں