نہروں اور کھالوں کی باقاعدہ صفائی سرے سے نہیں کی جاتی فصلوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات

نہروں اور کھالوں کی باقاعدہ صفائی سرے سے نہیں کی جاتی فصلوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات

اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے نہروں پر پانی چوری کے لیے قائم غیرقانونی کٹ بدستور موجود ،تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا، پانی کی منصفانہ تقسیم متاثر ہو رہی

سرگودھا(نعیم فیصل سے ) سرگودھا سرکل میں محکمہ انہار کی مبینہ غفلت، نہروں کی عدم صفائی، فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگیوں اور تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی نے مون سون سیزن کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال اور زرعی نقصانات کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے ۔ بیشتر نہروں کی صفائی نہ ہونے کے باعث نہ صرف پانی کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ پشتوں کی خستہ حالی بھی کسانوں اور دیہی آبادیوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے ،ذرائع کے مطابق سرگودھا سرکل کے بیشتر مقامات پر نہروں اور کھالوں کی باقاعدہ صفائی سرے سے نہیں کی جاتی، حالانکہ اس مقصد کے لیے ہر سال لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔ مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ محکمہ کی عدم توجہی کے باعث انہیں اپنی مدد آپ کے تحت نہروں کی صفائی کرانا پڑتی ہے ، مگر یہ کام نہ تو تکنیکی معیار کے مطابق ہوتا ہے اور نہ ہی اس دوران نہری پشتوں کی مضبوطی یا مرمت پر توجہ دی جاتی ہے ، جس کے باعث بارشوں کے موسم میں نہری پشتے ٹوٹنے اور آبادیوں و فصلوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں،ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ متعلقہ اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے نہروں پر پانی چوری کے لیے قائم غیرقانونی \\\"کٹ\\\" بدستور موجود ہیں۔ ان کی تعداد میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جس سے نہ صرف پانی کی منصفانہ تقسیم متاثر ہو رہی ہے بلکہ ٹیل کے علاقوں کے کاشتکار شدید پانی کی قلت کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں بھی مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے ،کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں کی فوری صفائی، پشتوں کی مضبوطی، غیرقانونی کٹوں کے خاتمے ، پانی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اور تجاوزات کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...