جانوورں کی جینیاتی بہتری کا پروگرام خطرے میں
جعلی، غیر معیاری اور غیر قانونی سیمن کے کھلے عام استعمال اور عطائی ویٹنری پریکٹیشنرز کی بھرمار نے مویشی پال کسانوں کو بھاری مالی نقصان سے دوچار کر دیا جانوروں میں حمل نہ ٹھہرنے ، کمزور نسل پیدا ہونے اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ رہے ہیں،ناقص سیمن کے استعمال سے جانور نتائج نہیں دیتے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) محکمہ لائیو اسٹاک کی مبینہ غفلت کے باعث سرگودھا سمیت ریجن بھر میں جانوروں کی نسل کشی (آرٹیفیشل انسیمنیشن) کے سرکاری منصوبے کو شدید دھچکا پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے ، جعلی، غیر معیاری اور غیر قانونی سیمن کے کھلے عام استعمال اور عطائی ویٹنری پریکٹیشنرز کی بھرمار نے نہ صرف مویشی پال کسانوں کو بھاری مالی نقصان سے دوچار کر دیا بلکہ جانوروں کی جینیاتی بہتری کے قومی پروگرام کی کامیابی بھی خطرے میں ڈال دی ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ریجن کے مختلف اضلاع میں ایسے افراد بڑی تعداد میں سرگرم ہیں جو نہ تو محکمہ لائیو اسٹاک سے رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی انہیں مصنوعی نسل کشی کی قانونی اجازت حاصل ہے ، اس کے باوجود وہ دیہی علاقوں میں مویشی پال افراد کو سستے اور غیر معیاری سیمن کے ذریعے انسیمنیشن کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے متعدد عناصر جعلی یا ناقص معیار کے سیمن کا استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جانوروں میں حمل نہ ٹھہرنے ، کمزور نسل پیدا ہونے اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ رہے ہیں،کسانوں کا کہنا ہے کہ آج بھی متعدد علاقوں میں یہی عناصر بلاخوف و خطر اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ انہیں بااثر حلقوں یا متعلقہ اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے ،وہ بہتر نسل کے جانور حاصل کرنے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں، مگر جعلی یا ناقص سیمن کے استعمال کے باعث ان کے جانور مطلوبہ نتائج نہیں دیتے ، جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار متاثر ہوتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments