قیمتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی، انتظامیہ خاموش
سرکاری مشینری کی دیگر معاملات میں مصروفیات اور متعلقہ حکام کی عدم توجہی کے باعث صوبائی سطح پر بھی جنگلات کے تحفظ کے اہم مسئلے سے توجہ ہٹتی چلی گئیآرا مشینوں، لکڑی کے گوداموں اور دیگر یونٹس کو مقررہ حدود سے باہر منتقل کرنے کا عمل بھی خاطر خواہ پیش رفت نہ کرسکا، ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا سرکل میں قیمتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی، لکڑی چوری اور غیر قانونی نقل و حمل روکنے کے لیے حکومتی دعوے عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث محض کاغذی کارروائی ثابت ہونے لگے ، مبینہ بے ضابطگیوں اور محکمانہ غفلت کے باعث جنگلات کے تحفظ کا نظام شدید مشکلات سے دوچار جبکہ لکڑی مافیا کو کھلی چھوٹ ملنے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیاسی کشیدگی، سرکاری مشینری کی دیگر معاملات میں مصروفیات اور متعلقہ حکام کی عدم توجہی کے باعث صوبائی سطح پر بھی جنگلات کے تحفظ کے اس اہم مسئلے سے توجہ ہٹتی چلی گئی، جبکہ پہلے سے قائم آرا مشینوں، لکڑی کے گوداموں اور دیگر یونٹس کو مقررہ حدود سے باہر منتقل کرنے کا عمل بھی خاطر خواہ پیش رفت نہ کرسکا۔ دوسری جانب جنگلات سے لکڑی کی غیر قانونی کٹائی اور نقل و حمل کی روک تھام کے لیے ضلعی پولیس اور انتظامیہ کے اشتراک سے مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کرنے کا منصوبہ بھی فائلوں اور مراسلت تک محدود ہوکر رہ گیا ہے جس کا براہ راست فائدہ مبینہ طور پر لکڑی چوری اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو پہنچ رہا ہے۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق چیک پوسٹوں کے قیام کے لئے ضلعی حکومت کو ڈیڑھ درجن سے زائد مراسلے ارسال کیے جاچکے ہیں، تاہم متعدد یاد دہانیوں کے باوجود تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی، جس سے محکمہ جنگلات کی اپنی نگرانی اور کارروائی کی صلاحیت بھی متاثر ہورہی ہے ۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرگودھا سرکل کے جنگلات کو ماحولیاتی، معاشی اور قدرتی وسائل کے حوالے سے ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments