15 ڈاکٹروں کے لائسنس معطل کرنے پر پی ایم اے کا احتجاج
15 ڈاکٹروں کے لائسنس معطل کرنے پر پی ایم اے کا احتجاج کارروائی سے قبل مکمل، غیرجانبدارانہ،شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تھیں، ڈاکٹر سکندر
سرگودھا (سٹاف رپورٹر )پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے 15 ڈاکٹروں کے میڈیکل لائسنس اور رجسٹریشن چھ ماہ کے لیے معطل کیے جانے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے ) سرگودھا نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔پی ایم اے سرگودھا کے صدر اور پی ایم اے پنجاب کے نائب صدر ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ نے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی سفارش پر پی ایم ڈی سی کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائی نامناسب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہی ہے کہ ڈاکٹروں کے احتجاج کے دوران مریضوں کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے ، تاہم موجودہ معاملے میں کارروائی کا طریقہ کار انتہائی تشویشناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی سے قبل مکمل، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تھیں، جبکہ ڈاکٹروں کے وضاحتی بیانات کو نظرانداز کرنا ان کے پیشہ ورانہ حقوق اور آئینی ضمانتوں کے منافی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹروں نے احتجاج کیا تو اس کے پیچھے ان کے بقول جائز مطالبات تھے ، جنہیں نظرانداز کرکے صرف ڈاکٹروں کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
پی ایم اے سرگودھا کے عہدیداران ڈاکٹر فواد حسین، ڈاکٹر غلام حسین فیضی، ڈاکٹر عدنان افضل گوندل، ڈاکٹر محمد خان ملک، پروفیسر ڈاکٹر ہاشم عمران، پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد ارشد، ڈاکٹر محمد افضل وڑائچ، ڈاکٹر خواجہ فرحت اقبال، ڈاکٹر ظفر حیات میکن، ڈاکٹر عرفان فرید، ڈاکٹر محمد اقبال سمیع، ڈاکٹر محمد اقبال بھلوانہ، ڈاکٹر محمد علی بھلوانہ، ڈاکٹر ناصر اقبال میکن، ڈاکٹر وقار معظم بھٹی، ڈاکٹر ریاض احمد اور ڈاکٹر اسد وڑائچ نے مطالبہ کیا کہ پی ایم ڈی سی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی فوری معطل کرکے شفاف تحقیقات کرائے اور انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جبکہ مستقبل میں یکطرفہ کارروائیوں سے گریز کرتے ہوئے شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے ۔ ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ نے کہا کہ پی ایم اے سرگودھا، پی ایم اے پنجاب کے ساتھ کھڑی ہے اور جو بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا، اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments