ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا طبی نظام غیر فعال ہو گیا
ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا طبی نظام غیر فعال ہو گیااکثر ڈاکٹر ،عملہ ریٹائر ہو گیا جس کے بعد کسی کی نئی تعیناتی نہیں کی گئی ،عمارتیں خستہ حال
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) حکومت کی عدم توجہی اور طویل عرصے سے نئی بھرتیاں نہ ہونے کے باعث لوکل گورنمنٹ کے زیرانتظام ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا طبی نظام تقریباً غیر فعال ہوکر رہ گیا، 25 رورل اور 3اربن ڈسپنسریوں میں سے اکثر مراکز کی عمارتیں خستہ حالی کے بعد کھنڈرات میں تبدیلی سے اربوں روپے کے وسائل ضائع ہونے لگے جبکہ بعض پر قبضہ مافیا کی نظریں بھی جم گئیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع سرگودھا میں ضلع کونسل اور میونسپل کارپوریشن کے زیرانتظام ان طبی مراکز میں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے نئی بھرتیاں نہ ہونے کے باعث ڈاکٹرز سمیت دیگر طبی عملہ بتدریج ریٹائر یا ملازمت سے فارغ ہوتا گیا، جس کے نتیجے میں بیشتر ڈسپنسریاں اور ہسپتال اپنی سابقہ طبی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے ، جبکہ دستیاب ماتحت عملے کو بھی مختلف مقامات پر ڈیوٹیاں دے کر کام چلایا جارہا ہے اور ادویات کی دستیابی بھی نہ ہونے کے برابر بتائی جاتی ہے ۔ شہر کے وسط میں سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں قائم جنرل ہسپتال بھی زبوں حالی کی تصویر بن گیا ہے ،
جسے ماضی میں اپ گریڈ کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے تھے اور یہاں ماہانہ پانچ ہزار سے زائد مریض طبی سہولیات سے مستفید ہوتے تھے ، جبکہ سوشل ویلفیٔر کی سرگرمیوں کے علاوہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں اور ویکسینیشن کی سہولت بھی فراہم کی جاتی تھی، تاہم یہ بھی زبو ں حالی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ کے ان طبی مراکز کی مسلسل نظراندازی کا براہ راست اثر ان غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں پر پڑ رہا ہے جو مہنگے نجی ہسپتالوں اور کلینکس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ، جبکہ دیہی علاقوں میں قائم ڈسپنسریاں مقامی آبادی کے لیے بنیادی طبی سہولت کا اہم ذریعہ تھیں۔ متعدد مراکز میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی عدم دستیابی، ادویات کی قلت اور عمارتوں کی خستہ حالی کے باعث سرکاری طبی سہولتوں کا بنیادی مقصد ہی متاثر ہورہا ہے ، جبکہ خالی اور غیر فعال عمارتوں کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھنے کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جارہا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments