چاپری واٹر سپلائی منصوبہ سیلابی ریلوں سے شدید متاثر

چاپری واٹر سپلائی منصوبہ سیلابی ریلوں سے شدید متاثر

چاپری واٹر سپلائی منصوبہ سیلابی ریلوں سے شدید متاثر 2025-26 میں فنڈز روک دیے گئے ، جس کے باعث منصوبہ مکمل نہ ہوسکا

میانوالی (نامہ نگار ) خٹک بیلٹ کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے لیے اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا چاپری واٹر سپلائی منصوبہ حالیہ پہاڑی برساتی نالوں میں آنے والی سیلابی ریلوں سے شدید متاثر ہوگیا۔ذرائع کے مطابق خٹک بیلٹ کی 10 یونین کونسلز کی تقریباً اڑھائی لاکھ آبادی کو پانی فراہم کرنے کے لیے چاپری واٹر سپلائی منصوبے کی تعمیر کی غرض سے مئی 2020 میں 3.3 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی تھی اور منصوبہ 28 ماہ میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم ستمبر 2022 میں منصوبے کی تخمینہ لاگت پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے بڑھا کر 3.6 ارب روپے کردیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ تین ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہونے کے بعد منصوبے کا 83 فیصد کام مکمل ہوچکا تھا، جس میں بنیادی ڈھانچہ، حفاظتی تنصیبات، مختلف علاقوں کو پانی فراہم کرنے والے واٹر چینلز کے فلٹرز اور دیگر انفراسٹرکچر شامل تھا۔ منصوبے کو پانی فراہم کرنے والے برساتی نالوں سے آنے والی سلٹ اور گریول کو روکنے کے لیے تقریباً 60 کروڑ روپے کی لاگت سے مین فلٹر نصب ہونا باقی تھا کہ 2025-26 میں منصوبے کے فنڈز روک دیے گئے ، جس کے باعث منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔حالیہ بارشوں کے بعد پہاڑی برساتی نالوں میں آنے والی شدید سیلابی ریلوں سے منصوبے کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلابی ریلوں سے ہونے والے نقصان کا فوری تخمینہ لگایا جائے ، متاثرہ انفراسٹرکچر بحال کیا جائے اور منصوبے کے بقایا کام جلد مکمل کیے جائیں تاکہ خٹک بیلٹ کی آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم ہوسکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...