ایک ہزار اینٹ 24 ہزار تک پہنچ گئی، تعمیراتی شعبے میں کام ٹھپ ہونا شروع

ایک ہزار اینٹ 24 ہزار تک پہنچ گئی، تعمیراتی  شعبے میں کام ٹھپ ہونا شروع

سموگ کے خلاف کارروائیوں اور بھٹوں پر پابندیوں کی صورتحال کو بعض بھٹہ مالکان نے قیمتیں بڑھانے کے لیے استعمال کیا ،مارکیٹ میں اینٹوں کی مصنوعی قلت پیدا کر دی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا ریجن میں سموگ کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے دوران اینٹوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے تعمیراتی شعبے کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ، جہاں ایک ہزار اینٹوں کی قیمت مبینہ طور پر تاریخ کی بلند ترین سطح 24 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ اینٹوں کی قیمت میں اس غیر معمولی اضافے نے مکان تعمیر کرنے والے عام شہریوں، چھوٹے ٹھیکیداروں اور دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں، جبکہ تعمیراتی اخراجات میں اضافے کے باعث متعدد منصوبوں کی رفتار سست پڑنے اور کام رکنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں،ذرائع کے مطابق سموگ کے خلاف کارروائیوں اور بھٹوں پر پابندیوں کی صورتحال کو بعض بھٹہ مالکان نے قیمتیں بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے ، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں اینٹوں کی مصنوعی قلت پیدا ہونے اور بلیک مارکیٹنگ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے ۔سموگ کے پیش نظر 20 اکتوبر سے 31 دسمبر تک بھٹوں میں آگ جلانے پر پابندی عائد کی گئی ہے ، تاہم پابندی کے نفاذ سے قبل ہی بھٹہ مالکان کی بڑی تعداد نے اینٹیں ذخیرہ کر لیں، جس کے بعد قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ اگرچہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بھٹوں کے خلاف قانونی کارروائیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایسی صورتحال میں تعمیراتی مواد کی دستیابی، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کی نگرانی کے لیے متعلقہ حکام نے مؤثر اقدامات نہیں کئے ،جس کی وجہ سے اینٹوں کی قیمتوں میں اضافے نے تعمیراتی اخراجات کو شدید متاثر کیا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...