
اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال اور اسلام آباد میں دھرنوں کے باعث چینی صدر شی جینگ پنگ کا دورہ پاکستان ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں سیاسی دھرنوں کے باعث چینی صدر کی پاکستانی حکام کیساتھ لاہور میں ملاقاتیں کرنے کی تجویز دی گئی تھی لیکن چین کی سیکورٹی ٹیم نے چینی صدر کے دورہ پاکستان کیلئے سیکیورٹی کلیرئنس نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق چینی سیکیورٹی ٹیم کا کہنا ہے کہ لاہور ایک گنجان آباد شہر ہے۔ سیکیورٹی کے باعث چینی صدر یہاں دورہ نہیں کر سکتے۔ واضع رہے کہ چین نے اسی ماہ سری لنکا اور بھارت کا دورہ بھی کرنا ہے۔ اس سے قبل سری لنکا اور مالدیپ کے صدور بھی اپنا دورہ پاکستان منسوخ کر چکے ہیں۔ چینی صدر کے دورے کے دوران 30 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط ہونا تھا جس سے پاکستان کی معیشت میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی۔ چینی صدر کا دورہ منسوخ ہونے سے توانائی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے درجنوں معاہدے بھی التوا میں پڑ گئے ہیں۔ جن معاہدوں میں دستخط ہونا تھے ان میں پورٹ قاسم پر کوئلے سے چلنے والے 2 بجلی گھروں کی تعمیر اور گڈانی کا انفراسٹرکچر بہتر بنانے کا معاہدہ بھی ہونا تھا۔ سندھ میں توانائی اور بہاولپور میں سولر پارک کے منصوبوں کو حتمی شکل دی جانی تھی۔ چین نے پاکستان میں ایٹمی توانائی کے مزید منصوبوں میں بھی دلچسپی ظاہر کی تھی۔ پاک چین اکنامک کوریڈور اور کراچی، گوادر، پشاور اور ملتان میں تجارتی شاہراہ کی تعمیر بھی ایجنڈے میں شامل تھی۔ لاہور میں لائٹ ریل اور ریلوے کا نظام بجلی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی ہونا تھا جبکہ پاکستان اور چین کے مرکزی بینکوں میں کرنسی کو قابل قبول بنانے کا معاہدہ بھی متوقع تھا۔
سے اہم مضامین پڑھیئے