آئی ایم ایف کے بغیر معاشی ترقی کیلئے3کمیٹیاں تشکیل:2035تک120ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر

آئی  ایم ایف  کے  بغیر معاشی  ترقی  کیلئے3کمیٹیاں  تشکیل:2035تک120ارب  ڈالر برآمدات  کا ہدف  مقرر

معاشی گروتھ کمیٹی کی قیادت وزیر خزانہ اورنگزیب، برآمدات ایف بی آر کمیٹی احسن اقبال،لیگل کمیٹی اعظم نذیر تارڑ کے سپرد وزارت پلاننگ رپورٹ میں مہنگی توانائی ، پیچیدہ ٹیکس نظام ،پالیسی عدم تسلسل اور ریگولیٹری بوجھ برآمدات کیلئے رکاوٹیں قرار اگر2029-30تک 60 ارب ڈالر برآمدات ہدف حاصل نہ کیا تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑیگا:وزیرمنصوبہ بندی

اسلام آباد (مدثر علی رانا)آئی ایم ایف کے بغیر اور برآمدات پر منحصر معاشی گروتھ کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے 3کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب معاشی گروتھ کیلئے قائم گورننس کمیٹی کے سربراہ ہیں، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال برآمدات میں اضافہ اور ایف بی آر کی ٹیکس آمدن بڑھانے سے متعلق کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف)  اہداف کے مطابق لیگل کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں۔وزارت منصوبہ بندی کی ورکنگ میں برآمدات بڑھانے کیلئے سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ دستاویز میں ملک کی برآمدی کارکردگی کو متاثر کرنے والے اہم معاشی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے مطابق پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل دباؤ کا شکار ہے ۔

وزارت پلاننگ رپورٹ میں مہنگی توانائی ، پیچیدہ ٹیکس نظام ،پالیسی عدم تسلسل اور ریگولیٹری بوجھ برآمدات کیلئے بنیادی رکاوٹیں قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ توانائی کی بلند اور غیر مستحکم قیمتیں صنعتوں کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں اور بار بار تبدیلی کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے ،جس سے مینوفیکچرنگ، زرعی پراسیسنگ، معدنیات، ماہی گیری اور خدمات کے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور برآمدی آرڈرز دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔دستاویز کے مطابق کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہے جس کی وجہ پیچیدہ اور غیر مؤثر ٹیکس نظام، ٹیرف سٹرکچر، ایڈوانس انکم ٹیکس کٹوتیاں، سیلز ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر اور ورکنگ کیپٹل کا مسلسل پھنس جانا ہے ۔ یہ مسائل خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔دستاویز میں پالیسی کے عدم تسلسل کو سرمایہ کاری اور خریداروں کے اعتماد کیلئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے ۔

ٹیکس، توانائی نرخوں، ٹیرف ڈھانچے اور برآمدی مراعات میں تبدیلیاں جو اکثر کاروباری سال کے دوران کی جاتی ہیں، مستقبل کی منصوبہ بندی، پیداواری توسیع اور برآمدی آرڈر بکنگ کو متاثر کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ادارہ جاتی بکھراؤ اور ریگولیٹری بوجھ نے بھی برآمدی نظام کو کمزور کر دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سستی مالی سہولتوں تک محدود رسائی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ برآمدی فنانس، انشورنس اور طویل المدتی قرضہ جاتی سہولیات ناکافی ہیں جبکہ بلند شرح سود، سخت شرائط اور لیکویڈیٹی مسائل ایس ایم ایز کو جدید ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور توسیع سے روکتے ہیں۔ لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کی رکاوٹوں کو بھی رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے ۔یہ تجاویز فائنل کر لی گئی ہیں جن پر آئندہ ہفتے تک وزیراعظم کو بریفنگ دی جائے گی۔ حکومت نے 2035 تک 120 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق اگر2029-30 تک 60 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف حاصل نہ کیا گیا تو پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 20 سیکٹرز کی برآمدات بڑھانے اور معیشت کو آئی ایم ایف کے بغیر چلانے کا روڈ میپ تیار کیا گیا ہے جبکہ برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے آئندہ چند برسوں میں 20 ارب ڈالر اضافے کی گنجائش موجود ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں