پنشن آئینی حق، دیر سے مانگنے پر ختم نہیں ہوتا:سپریم کورٹ

 پنشن آئینی حق، دیر سے مانگنے پر ختم نہیں ہوتا:سپریم کورٹ

درخواست گزار نے 2007میں استعفیٰ دیا اس وقت 20سال سروس مکمل کر چکے تھے فیڈرل سروس ٹربیونل کا پنشن مسترد کرنیکا فیصلہ کالعدم، پنشنری فوائد کی درخواست منظور

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے اور پنشن دیر سے مانگنے پر حق ختم نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ نے محمد عثمان کی پنشنری فوائد سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کا پنشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پنشن پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو نہیں ہوتا اور محض تاخیر کی بنیاد پر پنشن کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے محمد عثمان کو قانون کے مطابق پنشنری فوائد کا حقدار قرار دیتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل اور متعلقہ محکمے کی تشریح کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے ریگولیشن 418 کے تحت پنشن کی مخالفت کی تاہم عدالت نے کہا کہ ریگولیشن 418 کا تعلق صرف سروس کی گنتی سے ہے ، کیس کے مطابق محمد عثمان نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا تھا اور اس وقت وہ 20 سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے ، محکمے نے 25 سالہ سروس کی شرط پر پنشن کی درخواست مسترد کی تھی جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ اس وقت قانون میں 20 سال سروس پر پنشن کی شرط لاگو تھی، سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 میں ترمیم کر کے پنشن کے لیے اہلیت کی مدت 25 سال سے کم کر کے 20سال کر دی گئی تھی، کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بینچ نے کی جبکہ چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شفیع صدیقی نے تحریر کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں