منجمد بھیڑیے کے پیٹ سے گینڈے کے گوشت کا ٹکڑا دریافت
ماسکو(نیٹ نیوز)سائنسدانوں نے روس کے علاقے سائبیریا سے برف میں منجمد ہزاروں سال پرانے بھیڑیے کے 2 بچے کچھ عرصے قبل دریافت کیے تھے اور اب ان سے متعلق حیران کن انکشافات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔
ان کے جسموں میں محفوظ ڈی این اے سے سب سے پہلے تو محققین نے ان کے پیٹ میں وولی رینو نامی نسل کے زمانہ قدیم کے گینڈے کے گوشت کا ٹکڑا دریافت کیا۔یہ ٹکڑا بھیڑیے کے ایک بچے کے پیٹ کے اندر محفوظ تھا۔گوشت اور کھال کا ڈی این اے سائبیریا کی برف کے نیچے 14 ہزار سال سے زائد عرصے تک محفوظ رہا اور اس سے سائنسدان مکمل جینوم کا سیکونس تیار کرنے میں کامیاب رہے ۔ محققین نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ برفانی عہد کے کسی ایسے جانور کے مکمل جینیوم کو تیار کیا گیا جو کسی اور جانور کے پیٹ کے اندر تھا۔ گینڈا 14 ہزار 400 سال قبل مرا تھا۔