مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے :شاہ محمود
لاہور (کورٹ رپورٹر)تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میں پی ٹی آئی کا وائس چیئرمین ہوں پارٹی پالیسی سے ہٹ نہیں سکتا، مذاکرات سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت سے جنگ جیتنے کے باوجود خطرہ ٹلا نہیں۔ ہم نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے ، افغانستان کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے ۔پارٹی پالیسی کا پابند ہوں ،مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا گیا ہے وہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا افغانستان اگر استحکام چاہتا ہے تو اسے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا ہونگے ،ہم امن چاہتے ہیں، افغانستان کو دہشتگردی کے خلاف ہمارا ساتھ دینا چاہیے ۔ مذاکرات سے متعلق ایک سوال پر شاہ محمود نے کہا آخر اسکا حل کیا ہے ، مزاحمت کے بعد بھی تو مفاہمت ہی ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ فواد چودھری اور میں ایک پارٹی میں رہے ہیں، میں ہسپتال تھا تو وہ عیادت کے لیے آ گئے ،اب گھر آئے مہمان کو کیا کہوں کہ کیوں ملنے آئے ہو۔قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نو مئی کے تین مقدمات میں عبوری ضمانت میں 13 فروری تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا-انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی،شاہ محمودکو جیل سے لا کر پیش کیا گیا۔