وفاق اور صوبے ملکرکام کریں، مسائل حل ہوجائینگے :مفتاح

وفاق اور صوبے ملکرکام کریں، مسائل حل ہوجائینگے :مفتاح

وفاق اور صوبوں کا پیسے اکٹھے کرنا آئینی حق، اس پر غلط بیانی کی جاتی :راشد لنگڑیال وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں تعلیم پر 2 سال میں ریکارڈ کام کیا گیا:رانا سکندر برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے :اطہرمن اللہ تمام ججز، سیاستدانوں کا احتساب ضروری:عرفان قادر، تھنک فیسٹ سے خطاب

لاہور(سٹاف رپورٹر، خبر نگار، آن لائن، آئی این پی)تھنک فیسٹ کے تیسرے اور آخری روز گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ پر بات کی جاتی ہے ، 2009میں ساتواں این ایف سی ایوارڈ منظور ہوا تھا جس کے مطابق صوبوں کو57اعشاریہ 5فیصدپیسہ وفاق کے ٹیکسوں سے دیا جاتاہے ، اس میں کے پی کو دہشت گردی  کے خلاف جنگ میں ایک فیصد دیاجاتاہے ، اب دسواں این ایف سی ایوارڈ شروع ہوا ہے ، اسی طرح سندھ کو ضلع چونگی ٹیکس 0اعشاریہ4فیصد دئیے جاتے ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو سارے پیسے وفاق دیتاہے ،فاٹا کو بھی کے پی کے ساتھ ملا دیاگیا، اس طرح وفاق کے پی کو پیسے دیتاہے ،62فیصد وفاق سے صوبوں کو پیسے دیئے جاتے ہیں ،وفاق کی جانب سے یہ بات کی جاتی ہے کہ ان کو بہت کم این ایف سی ایوارڈ سے پیسے ملتے ہیں۔ وفاق اور صوبوں کو مل کرکام کرنا چاہیے اور بہت سے مسائل ہیں جوکہ مل کر مسائل حل ہوجائیں گے ۔تھنک فیسٹ میں خطاب کرتے ہوئے ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہاکہ این ایف سی کے بارے میں کہاجاتاہے کہ فیڈریشن صوبوں کو پیسے دیتی ہے ،یہ پیسے وفاق اور صوبوں کی جانب سے اکٹھے کئے جاتے ہیں اور یہ آئینی حق ہے اس بارے میں غلط بیانی کی جاتی ہے ، وفاق کی ضرورت ادھر ہوتی ہے جہاں پر وفاق ہوتاہے اس لیے ایک پوائنٹ پر پیسہ،ریونیو اکٹھا کیا جاتاہے اس بارے میں بات بھی کی ہے ،اس کا کوئی اور طریقہ کار نہیں ہے ۔

اسد سعید ماہر معیشت نے کہاکہ 7ویں این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوئی ، قرضہ کی ادائیگی اور این ایف سی ایوارڈ میں سے وفاق کا ایک بڑا حصہ ہوجاتاہے ،صحت اور تعلیم کے بارے میں شرح اخراجات کی حد مقرر کرنی چاہیے ، اسی طرح اگر وسائل کم ہوجاتے ہیں تو صوبوں کے وسائل کم ہوجاتے ہیں۔وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے غیر سرکاری تنظیم برگد اور یوتھ ٹیوب کے زیر اہتمام گرلز ایجوکیشن فیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں تعلیم پر گزشتہ 2 سالوں میں ریکارڈ کام کیا گیا۔ آج پنجاب میں تعلیمی اصلاحات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لیے اقدامات نے پنجاب کی تعلیمی صورتحال کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کر دیا ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ اطہر من اللہ نے تھنک فیسٹ سے خطاب میں کہا کہ برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے ۔مجھے خوشی ہے میں جانوروں کے حقوق پر فیصلہ دے چکا ہوں، جانوروں اور انسانوں کے ساتھ زیادتی میں خاص فرق نہیں ہے ۔سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے تھنک فیسٹ کے تیسرے روز 27 ویں ترمیم پر مکالمے کے دوران مطالبہ کیا کہ تمام ججز اور سیاستدانوں کا احتساب ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ کہتا رہا ہوں کہ مادر پدر آزاد عدلیہ کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑے گا جو آج ہیں، وفاقی وزرا، وزیرِ اعظم اور ججوں کو نااہل کیا گیا۔سابق اٹارنی جنرل نے کہا کیا ہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کردار بھول گئے ہیں، پارلیمنٹ کو اتفاقِ رائے سے ججوں کی تقرری پر اتفاق کرنا چاہیے ، پاکستان میں توہینِ عدالت کا کوئی قانون ہی نہیں، جج خود کیس بنا کر فیصلے کر رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں